کوریا میں گرمیاں گزارنے کی عملی گائی
اس سال بھی گرمی کی شدت بہت زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، سال 2025 کی گرمیوں میں ملک کا اوسط درجہ حرارت 25.7 ڈگری سیلسیس تھا جو کہ 1973 کے بعد سب سے زیادہ گرم سال ریکارڈ کیا گیا۔ سال 2026 میں بھی درجہ حرارت اور سمندر کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی پیش گوئی ہے، جس کی وجہ سے ہیٹ ویو یعنی لو چلنے اور شدید گرمی سے بچنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
کوریا میں رہنے والے غیر ملکیوں کے لیے اب گرمیوں کی تیاری کرنا کوئی معمولی بات نہیں رہی۔ خاص طور پر اگر آپ ایئر کنڈیشنر یعنی اے سی چلانے کا صحیح طریقہ، یہاں کی غذائی ثقافت اور صحت کی دیکھ بھال کے طریقے پہلے سے سیکھ لیں، تو آپ اس شدید گرمی کا مقابلہ آسانی سے کر سکتے ہیں۔
سب سے پہلے اے سی کے استعمال پر غور کریں۔ کوریا میں بجلی کا بل اس اصول پر آتا ہے کہ آپ جتنا زیادہ استعمال کریں گے، فی یونٹ قیمت اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ اس لیے اگر آپ لاپرواہی سے سارا دن اے سی چلتا چھوڑ دیں گے تو مہینے کے آخر میں بھاری بل دیکھ کر پریشان ہو سکتے ہیں۔ اے سی چلانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ شروع میں اسے تیز ہوا پر چلا کر کمرے کا درجہ حرارت جلدی کم کریں، اور پھر اسے 26 سے 28 ڈگری کے آس پاس برقرار رکھیں۔ اگر آپ اے سی کے ساتھ پنکھا بھی چلائیں گے تو ٹھنڈی ہوا پورے کمرے میں جلدی پھیلے گی اور بجلی کی بچت ہوگی۔ ہر 2 سے 3 ہفتوں میں ایک بار اے سی کا فلٹر صاف کرنے سے بھی کولنگ بہتر ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ اگر کمرے کے اندر اور باہر کے درجہ حرارت میں بہت زیادہ فرق ہو تو انسان کو ایئر کنڈیشننگ کی بیماری ہو سکتی ہے، جس سے سر میں درد، تھکن اور بدہضمی ہو سکتی ہے۔ اے سی کی سیدھی ہوا کے سامنے زیادہ دیر بیٹھنے سے بھی گریز کریں۔
گرمی کے موسم میں کوریا کے روایتی کھانوں کے بارے میں جاننا بھی بہت مفید ہے۔ یہاں کا سب سے مشہور گرمیوں کا کھانا سامگی تھانگ ہے۔ یہ چکن کا ایک سوپ ہوتا ہے جس میں جن سنگ اور کھجوریں ڈال کر ابالا جاتا ہے، یہ گرمی سے نڈھال جسم کو فوری طاقت دیتا ہے۔ اسی طرح اییل مچھلی بھی طاقت بڑھانے کے لیے بہت مشہور ہے۔ اگر آپ کو گرمی میں گرم کھانا پسند نہیں، تو آپ کھونگ کوکسو یعنی ٹھنڈے بین نوڈلز یا میمل کوکسو کا انتخاب کر سکتے ہیں جو ٹھنڈے بھی ہوتے ہیں اور غذائیت سے بھرپور بھی۔ اس کے علاوہ تربوز اور کوریائی خربوزے جیسے موسمی پھل کھا کر جسم میں پانی کی کمی پوری کرنا بھی ضروری ہے۔
اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ زیادہ پسینہ آنے سے جسم سے نہ صرف پانی بلکہ نمکیات یعنی الیکٹرولائٹس بھی نکل جاتے ہیں۔ دھوپ میں کام کرنے یا باہر گھومنے کے بعد پانی کے ساتھ آئن ڈرنکس پینا صحت کے لیے اچھا ہے۔ تھکن دور کرنے کے لیے وٹامن سی، جسمانی توانائی کے لیے وٹامن بی اور پٹھوں کے سکون و اچھی نیند کے لیے میگنیشیم کا استعمال مددگار ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ وٹامنز ہر انسان کی صحت کے مطابق مختلف اثر کر سکتے ہیں، اس لیے اگر آپ کو کوئی بیماری ہے یا آپ پہلے سے دوائیاں لے رہے ہیں تو ڈاکٹر کے مشورے سے ہی انہیں استعمال کریں۔
بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کا ادارہ اس سال بھی گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی نگرانی کا نظام چلا رہا ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے سر درد، چکر آنا، پٹھوں کا کھنچاؤ، شدید تھکن اور بے ہوشی جیسی علامات ہو سکتی ہیں، جنہیں نظرانداز کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ پچھلے سال گرمی کی بیماریوں کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 4460 ریکارڈ کی گئی جو اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ تھی۔
کوریا کا گرمی کا موسم بہت زیادہ گرم اور حبس والا ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ اے سی کا عقل مندی سے استعمال کریں، طاقت بخش غذا لیں، اور پانی و نمکیات کی کمی پوری کرتے رہیں تو آپ خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ غیر ملکیوں کے لیے کوریا میں گرمیاں گزارنے کی صحیح معلومات ہی ان کی صحت اور بقا کی ضامن ہیں۔