کوریا کے سب سے بڑے تہوار سولال (قمری نیا سال) کے بارے میں سب کچھ جانیے
جو لوگ کوریا میں رہتے ہیں یا کورین ثقافت کا تجربہ کر چکے ہیں، وہ اکثر سال میں دو بار “نیا سال مبارک/سہینے بوک مانی بدوسے یو” جیسا مبارک باد والا جملہ سنتے ہیں۔ ایک بار یکم جنوری کو (شمسی نیا سال) اور دوسری بار قمری نیا سال یعنی سولال پر۔ لکھا تو “سولنال” جاتا ہے، مگر تلفظ “سَوللال” کے قریب ہے۔ چونکہ سولال قمری کیلنڈر کے مطابق ہوتا ہے، اس لیے اس کی تاریخ ہر سال بدلتی رہتی ہے اور عموماً جنوری یا فروری میں آتا ہے۔ 2026 میں سولال 17 فروری کو ہوگا، اور اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد ملا کر 16 سے 18 فروری تک تین دن کی سرکاری چھٹی ہوگی۔
قمری نیا سال ایشیا کے کئی ممالک میں منایا جاتا ہے، لیکن کوریا کا سولال اپنی منفرد روایات اور سماجی منظرنامے کی وجہ سے خاص پہچان رکھتا ہے۔ چھٹیاں شروع ہوتے ہی بے شمار لوگ خاندان سے ملنے کے لیے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس میں بس، ٹرین اور جہاز کے ٹکٹ جلدی ختم ہو جاتے ہیں یا ان کی قیمتیں کافی بڑھ جاتی ہیں۔ اس بڑے پیمانے کی آمد و رفت کو “قومی ہجرت” سا منظر کہا جاتا ہے، جو کورین معاشرے میں تہوار کی علامت بن چکا ہے۔
سولال کی صبح کا سب سے اہم عمل“سیبے” ہے۔ بچے اپنے بزرگوں کو بڑا سجدہ نما سلام کرتے ہیں، صحت اور خوشی کی دعا کے ساتھ مبارک باد دیتے ہیں، اور بزرگ جواب میں دعائیں اور “سیبے دون” (نقد تحفہ/عیدی) دیتے ہیں۔ کبھی کبھار “اس سال ضرور شادی کر لینا” جیسے ہلکے پھلکے جملے بھی کہے جاتے ہیں۔ بہت سے گھرانوں میں اس دن ہانبوک (روایتی لباس) بھی پہنا جاتا ہے، یوں روایت کچھ دیر کے لیے روزمرہ زندگی میں واپس آ جاتی ہے۔
جب خاندان ایک جگہ جمع ہو تو“چارے” ادا کیا جاتا ہے۔ یہ آباؤ اجداد کے احترام اور شکرگزاری کی ایک رسم ہے- باقاعدہ اہتمام کے ساتھ کھانے رکھے جاتے ہیں اور سجدہ/سلام کر کے نئے سال کی خیر و عافیت کی دعا کی جاتی ہے۔ آج کل کچھ گھرانے طریقہ کار سادہ کر لیتے ہیں یا اسے چھوڑ بھی دیتے ہیں، مگر خاندان کی یکجہتی کی علامت کے طور پر اس کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔
سولال کے آس پاس بہت سے لوگ طلوعِ آفتاب دیکھنے بھی جاتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ نئے سال کی پہلی صبح خوش نصیبی لاتی ہے۔ کچھ لوگ قسمت یا فال بھی دیکھواتے ہیں، اور روایتی کھیل جیسے پتنگ بازی اس تہوار کے مناظر میں شامل ہوتے ہیں۔
سولال کے کھانوں میں “تَیُک گوک” مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ سفید چاولی کیک (گاریے تُک) کو باریک اور گول ٹکڑوں میں کاٹ کر شوربے میں پکایا جاتا ہے۔ اس کی شکل سکّے جیسی ہونے کے سبب یہ دولت اور خوشحالی کی علامت سمجھی جاتی ہے، جبکہ سفید رنگ نئی شروعات اور درازیِ عمر کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ عموماً گائے کے گوشت یا ہڈیوں کے شوربے سے یہ بنایا جاتا ہے، اس لیے سبزی خور افراد کو شوربے کے اجزا پہلے چیک کر لینا بہتر ہوتا ہے۔
تہوار کی رونق بڑھانے کے لیے“یُتنوری” بھی بہت مقبول ہے۔ چار لکڑی کی چھڑیاں پھینک کر “دو، گے، گول، یُت، مو” کے نتیجے کے مطابق مہروں کی چال چلتے ہیں۔ اصول سادہ ہیں، مگر ہنسی اور مقابلہ آرائی دونوں بھرپور ہوتی ہیں۔
کوریا میں سولال محض چھٹی نہیں۔ یہ خاندان کے ساتھ وقت گزار کر نئے سال کی شروعات کرنے کی ایک علامتی رسم ہے، اور کورین معاشرے کی روایت اور جذبات کو سب سے زیادہ سمیٹ کر دکھانے والا وقت بھی۔ “نیا سال مبارک”کہنا، تَیُک گوک کھانا اور یُتنوری کھیلنا۔یہ سب کورین ثقافت کو سمجھنے کے سب سے براہِ راست طریقوں میں شمار ہوتا ہے۔